Qamar Naqvi

Qamar Naqvi

Qamar Naqvi

Worked at MOFA (Ministry of Foreign Affairs Pakistan) Studied at University of the Punjab Lives in Dublin, Ireland




حسینیت کہیں آ کر ٹھہرتی ہے بہتر میں

اللہ رے ہمت سجدے کی

خواب زینت ہیں نیند کی پیارے

میں دل کو سندھ کروں،آنکھ کو چناب کروں

خود اپنی ذات میں گہرادھنسا ہوا ہوں میں

آج،رات آئی،کل جائے گی

غربت بھی ہو اوراس پہ غریب الوطنی بھی

میں دل کا کھیل ہوں تو مجھے دل لگی سے کھیل

وہ فی البدییہ سا تکلم وہ قدرتی لہجہ

رکھ لئے الگ میرے ، مسٔلے جو رکھنے ہیں

یونہی کہتا ہوں میں کہ دو قدم کے فاصلے پر ہوں

اپنے ہی لہو پر کبھی پلنا بھی تو سیکھے

رفیقِ دشمناں بننے کی آخرکیا ضرورت ہے

پروانے،جو ہرجانے،جل کر دیتے ہیں

یوں تو بچھڑ کے پھول سے ، خشبو اڑا کرے

سفر یہ گردشِ پیہم سے ملتا جلتا ہے

لگی ہے عمر وہاں سے مجھے اترتے ہوئے

سننے آئے ہیں جو،اپنی ہی سننانے لگ جائیں

کبھی سرشارِ تمنا، تو کبھی آہ ، یہ دل

دنیا دیکھی اور تمہاری گلیاں بھی

کہا گیا ہے ، جیو،اورجی رہا ہوں

مجھے سر درد نے ، گھیرا ہوا ہے

تم نے جس دل سے بہت رابطہ ، کم رکھا ہے

حلقۂ فکر میں ہو ، لفظ کی آغوش میں ہو

پیار ، فقط تسخیر کی خواہش ہو سکتی ہے

میں ایک دل ہی نہیں ، اس پہ جان دیتا ہوں

یقین میں نہ سہی ، وہ گمان میں رکھے

بلا کے شور میں نالے نہ ڈوب جائیں کہیں

خدا کا بھی ہے تو ، اصنام کا بھی

کوئی آواز آ رہی ہے ابھی

باتوں ہی باتوں میں کیا کچھ کہنے لگتے ہو

1 thought on “Qamar Naqvi

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *