Gulzar Bukhari

ہوا پتے گرائے گی
ہوا پتے گرائے گی

Gulzar Bukhari
Gulzar Bukhari




دعا ہے یہ

نعت

سلام

قائداعظم کے لیے

امید بہاراں

شجر بے دست و پا ہیں ابتلا کو کون روکے گا

فروغ حسن سے ارض وسما کو کون روکے گا

عجب نہیں کہ نہ تجھ پر کھلیں ہنر میرے

گوشوارہ

استقلال

طوفاں کا رخ ہے کوچہ و بازار کی طرف

خلا میں تکتی آنکھوں سے عیاں ہیجان کیسا ہے؟

ترے کرم نے کیے بخت کیا سے کیا میرے

کشکول

دیے سے جب دیا جلتا رہے گا

محبت کے سوا حرف و بیاں سے کچھ نہیں ہوتا

احساس کی لو بڑھائے رکھنا

مسافر

حذر کروہم سے

ذہن راضی تری دوری پہ ہمارا بھی نہیں

جب چمن تیرآزماؤں میں گھرا رہ جاۓ گا

آ ٔینےکا منہ تحیر سے کھلا رہ جاۓ گا

متبادل

غیرتِ ناہید

گھروں سے اب نکلنا چاہتے ہیں

کوئی پتا بھی رفاقت میں نہ پورا اترا

تصفیے کی راہ میں حائل غرور اس کا بھی ھے

سدا سیؔال

نسخہ

ہزار جان کو خدشےسہی سفر میں بھی

خوابوں کی خلش ذہن کو مختل ہی نہ کر دے

عکس روشن ترا آ یٔنہِ جاں میں دیکھا

تونے یہی چنا ہےتو یہ رنگ ہی سہی

اب تجھ سے مراسم کیا رکھنا


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *