چراغ تیری عنایتوں کے

Shah Ali Azam Shah

سید علی اعظم شاہ بحاری
سید علی اعظم شاہ بخاری

تعارف




خشک اشجارپہ گلدستے سجا دیتا ہے

جانتا ہے تو ، وہ زمانی ہے

کرتا ہوں شرح درد میں خیرالانام سے

چراغ تیری عنائتوں کے دل ونظر میں چمک رہے ہیں

تُوحؔی ویا قیوم غفورالرحیم ہے

وفاؤں کے زمانےڈھونڈ تا ہے

ایسا نہیں کہ بھیج کے فرشِ زمین پر

تری حد ہے کوئی نہ انتہا، یہ تُواپنا حسنِ کمال دیکھ

عرشِ بریں ہے گھر ترا، تُواپنےگھرمیں آ

قطعات سرکارِعالمؐ

زندگی بھرشہ بطحاؐ تیری نعتیں لکھوں

ہیں سارے جہاں پہ قدم آپؐ کے

دلوں میں سب کے تیری محبت ﷺ

حق کا دیا پیام امامِ حسینؑ نے

اکبرؑ کی جوانی کا الم اور ہی کچھ ہے

یہ جو کربلا کا ہے سانحہ

اوقات کیا ہے میری ، کہاں شانِ کربلا

کرب و بلا کے دشت کی تفسیر کیا کریں

انسان کیا سمجھ سکے عظمت رسولؐ کی

جس نے کیا تھا خوں کا سفر دشتِ نینوا

سلام بحضورامام سیدالساجدینؑ

اس کی قسمت میں لٹا اک قافلہ رہ جایٔگا

فردوس بھی ہو اس کے مقابل تو ہیچ ہے

لوٹ کر آۓ اسیران جفا شام کے بعد

بے کسی کی حالت ہے،بے کسی کا عالم ہے

رقم لہو سے عبارت نہ کربلا کی طرح

زمینِ کربلا پہ جو سایۂ سحاب ہوا

لہولہو ہے جبینِ کربل فلک بھی آنسو بہا رہا ہے

بسلسلہ جشن ولادت امامِ عالی مقامؑ

سلام بحضورامامِ عالی مقامؑ

ریگِ صحرا پہ ترا سجدےمیں جانا مولاؑ مولاؑ

صداقتوں کے زمانے میں آفتاب کھلے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *