ابر گریز پا ۔۔۔۔علی اعظم بخاری




اس کے چہرے پر تھکن تھی کرب کا پیغام تھا

چھپا رکھا تھا اس کا درد ہم نے رازداری سے

شام پرہول میں انوار کا ہالا ہو گا

ہر کوئی خود میں چھپا لگتا ہے

خلا کے دِل میں گَڑتا جا رہا ہوں

اپنے گھر کے آنگن میں شعلے بھڑکا ئے رکھتا ہوں

چپکے چپکے روتے رہنا کچھ بھی نہ کہنا

کہتا ہے کون چین سے ہم اپنے گھر میں ہیں

عمر بھر تلخ نوائی میں کمی کیا ہو گی

اجاڑ کر دربدر پھرایا کیا ہمیں بے امان اس نے

شاخ سے پھول جھڑ گیا ہے کوئی

پاگل ہوا کے ہاتھ میں کس نے دیئے چراغ

تو شفق شفق سا ہے سامنے تجھے دیکھ دیکھ کے رو لئے

بگڑ رہی ہیں نگاہوں میں صورتیں کیا کیا

تو کہ خوشبو ہے تجھے پھول اشارے لکھوں

جب پشیماں ستم ایجاد نظر آتا ہے

جگ ہنسائی کا مرے پاس ازالہ ہی نہ تھا

شکستِ درد کے پرکیف سلسلے پائے

ہجر کی آگ میں تڑپائےتو اور مزہ

تیرے ہوتے ہوئے ہر پھول پشیماں کب تھا

گھر تو کب کا چھوٹ چکا ہے گھر کی باتیں رہنے دو

فکرِدوراں کو ٹال رکھا ہے

گرمی سے پگھل رہا ہے کوئی

ڈالی کچھ اس ادا سے نظر بولنے لگے

نسلِ انساں کا اثاثہ تو شررپررکھا

پیار کے سانچے میں ڈھل کردیکھ لینا تھا اُسے

ایک کہرام سا ہرسمت بپا ہے کیسا

جب ملنا الزام ہی دھرنا کہاں سے تم نے سیکھ لیا ہے

ہوس کی آگ سے دشتِ بدن خالی نہیں ہوتا

وہ سیلِ بے اماں کِس گھر گیا ہے

زمانے کے غموں کو ایک لمحہ سہہ نہیں سکتا

رات دیکھی نہ کبھی ایسی بھیانک کوئی

ایک تو قافلے والوں سے وہ پیچھے رہتا جاتا ہے

رونق تمام شہر کی اب ختم ہو گئی

نہ جسم و جاں کی خبر ہے کوئی بریدہ سر لے کے چل رہا ہوں

تیرا یوں دِل میں غم رکھا ہوا ہے

سمندر سے گریزاں کس لئے ہو

ٹوٹے گا اس پہ زلزلہ وادی کے پیٹ سے

پیچاک راستوں کو بدلنا ہی چاہیئے

لاکھ چاہا نہ کبھی حدِ خطر سے نکلا

بعد مرنے کے مرے ہوش ٹھکانے آئے

رکھا ہوا ہو جس نے ہتھیلی پہ جان کو

پھٹی پھٹی سی ہیں میری آنکھیں عجیب عالم میں سو رہا ہوں

دِل کی بستی کے جلانے کو اشارہ مانگے

وہ ذائقہ شباب کا جذبات میں کہ بس

مسائل کا پلندا دے دیا گیا ہے

بے یقینی کی فؑۡضا سے شک کی منزل سے نکال

کناروں سے لپٹنا چاہتی ہے

ہمیشہ چھوڑ کر اپنی زمیں روتے ہوئے نکلے

عجب ہے کیا جو ہمارا کچہ مکان باقی نہیں رہا ہے

شہر فسوں سے دیو کا سر کون لائے گا

دریا وہی ہے اس کی روانی وہی توہے

جانگسل کتنا ہے دھندلا ہوا منظر کوئی

تیرے قامت تیرے چہرے کے اجالے سے لکھا

چھوڑکرہم کوتنہا وہ جب چل پڑا شہرمیں وحشتیں رقص کرنے لگیں

مہک رہے ہیں گلاب چہرے مگروہ چہرہ

ترسیل لفظ اورہےوجدان اورہے

مسند پہ عدالت کی یہ قابیل عجب ہے

سبزہ و گل کے ہم رنگیں نظارے بھول گئے

غزل کے مطلع کی صورت عیاں چہرہ وہ کس کا تھا

یہ بزمِ رقص یہ چنگ و رباب رہنے دے

جو بوجھہ دل پہ معلق تھا وہ اتارآئے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *